The Best Source of Muslim Shia Videos
Online Viewers: 875

ایام حج کی مناسبت سے ولی امر مسلمین سید علی خامنہ ای (حفظہ اللہ) کے پیغام کا اردو ترجمہ

بسم اللّه الرّحمن الرّحیم و الحمد للّه رب العالمین و الصلاة و السلام علی سیدنا محمد خاتم النبیین و آله الطاهرین و صحبه المنتجبین

خدائے بزرگ و برتر کا شکر بجا لاتا ہوں کہ اس سال بھی دنیا کے مومنین کی ایک بڑی تعداد کو حج کی توفیق سے اس نے نوازا کہ وہ اس پُرفیض اور خالص سرچشمے سے بہرہ مند ہوں اور ان شب و روز کو، جن کے مبارک و مفید لمحات معجزہ نما اکسیر کی مانند دلوں کو منقلب اور روحوں کو پاکیزہ و آراستہ کر سکتے ہیں، خدا کے عظیم گھرکے جوار میں اور عبادات و خشوع و ذکر و تقرّب کے 'لمحات' میں بسر کریں۔

حج رموز و اَسرار سے پُر عبادت ہے، بیت شریف (کعبہ) برکاتِ الہٰیہ سے سرشار مقام اور حق تعالی کی آیات و روشن نشانیوں کا مظہر ہے۔ حج مومن، اہلِ خشوع و صاحبِ تدبّر بندے کو روحانی مدارج پر پہنچا سکتا ہے اور اسے بلندی و نورانیت سے مُزیّن کر سکتا ہے۔ اسی طرح اسے صاحبِ بصیرت، شجاع، اہل اقدام و مجاہدت کرنے والے انسان میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اس بے مثال فریضے کے روحانی و سیاسی نیز شخصی و اجتماعی پہلو بہت زیادہ نمایاں اور واضح ہیں اور ان دونوں پہلوؤں کی آج سخت ضرورت ہے۔

ایک طرف جدید وسائل کی مدد سے مادہ پرستی کا طلسم اپنا فریب اور اپنی تباہ کاری پھیلا رہا ہے اور دوسری طرف تسلّط پسندانہ قوّتوں کی پالیسیاں مسلمانوں کے درمیان فتنہ انگیزی ،آگ لگانے اور اسلامی ممالک کو بدامنی و اختلافات کی دوزخ میں تبدیل کر دینے پر تلی ہوئی ہیں۔ حج مسلم اُمہ کے لئے ان دونوں بڑی مصیبتوں( اختلافات اور بد امنی) کی شفابخش دوا قرار پا سکتا ہے؛ دلوں پر لگی زنگ ہٹا سکتا ہے اور تقوی و معرفت کے نور سے انھیں منوّر کر سکتا ہے، اسی طرح ان کی آنکھیں کھول کر دنیائے اسلام کے تلخ حقائق دکھلا سکتا ہے اور اس صورت حال کے مقابلے کے لئے ارادوں کو محکم، قدموں کو استواراور ہاتھوں و اذہان کو کام کے لیے آمادہ کر سکتا ہے۔

آج دنیائے اسلام بدامنی کا شکار ہے؛ اخلاقی اور روحانی بدامنی سیاسی بدامنی۔ اس کی بنیادی وجہ ہماری غفلت اور دشمنوں کی بے رحمانہ یلغار ہے۔ ہم نے اوباش دشمن کی یلغار کے جواب میں اپنے دینی و عقلی فرائض پر عمل نہیں کیا۔ ہم نے 'اَشِدّاءُ علی الکُفّار' (پعنی کفّار کے ساتھ سختی) کو بھی فراموش کر دیا اور ہم 'رُحَماءُ بَینَھُم'(یعنی آپس میں مہربانی) کو بھی بھول گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عالمِ اسلام کے جغرافیہ کے قلب میں صیہونی دشمن فنتہ انگیزی کر رہا ہے اور ہم فلسطین کو نجات دلانے کے اپنے حتمی فریضے سے غافل ہیں اور شام، عراق، یمن، لیبیا اور بحرین کی خانہ جنگی نیز افغانستان، پاکستان اور دیگر جگہوں پر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہیں۔

اسلامی مملکتوں کے سربراہان اور دنیائے اسلام کی سیاسی، دینی و ثقافتی شخصیات کے دوش پر سنگین ذمہ داری ہے؛ اتحاد پیدا کرنے کی ذمہ داری، قومیتی و مسلکی تصادم سے سب کو دور رکھنے کی ذمہ داری، استکبار اور صیہونزم کی خیانت اور دشمنی کے طریقوں سے قوموں کو آگاہ کرنے کی ذمہ داری، سخت جنگ(عسکری جنگ) و نرم جنگ (فکری اور میڈیا کی جنگ) کے میدانوں میں دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے سب کو وسائل سے لیس کرنے کی ذمہ داری، اسلامی ممالک کے درمیان اندوہناک واقعات کو، جس کی یمن کے سانحات جیسی تلخ مثالیں ساری دنیا میں غم و اندوہ اور اعتراض و احتجاج کا باعث بنی ہیں، فوری طور پر بند کروانے کی ذمہ داری، میانمار اور دیگر خطوں کے مظلوموں جیسی مسلم اقلیتیوں کے دو ٹوک دفاع کی ذمہ داری اور سب سے بڑھ کر فلسطین کی حفاظت کی ذمہ داری اور تقریبا ستر سال سے اپنے غصب شدہ ملک کے لئے جدوجہد کرنے والی قوم سے تعاون اور حمایت کی ذمہ داری۔

یہ اہم فرائض ہیں جو ہم سب کے دوش پر ہیں۔ اقوام کو چاہئے کہ اپنی حکومتوں سے اس کا مطالبہ کریں، اہم شخصیات کو چاہئے کہ اپنے پختہ عزم اور خالص نیت کے ذریعے ان پر عملدرآمد کی راہ میں کوشش کریں۔ یہ اقدامات دین خدا کی نصرت کی حتمی مثالیں ہیں جو بلا شبہ وعدہ الہی کے مطابق نصرت خداوندی کے مشمول قرار پائیں گے۔ یہ حج سے ملنے والے درسوں کا ایک حصہ ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ ہم اس کا ادراک اور اس پر عمل کریں گے۔ آپ سب کے لئے حج مقبول کی دعا کرتا ہوں اور منٰی اور مسجد الحرام کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور خدائے رحیم و کریم سے ان کے لئے بلندی درجات کا طالب ہوں۔


والسلام علیکم و رحمة اللّه سید علی خامنه‌ای
30/اگست/2017
7 /ذی‌الحجة/۱۴۳۸